پیرس میں دو مسلمان خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہپیرس میں دو مسلمان خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہ - Tech Tips - Tech can be complex; we make it easy

Tech Tips - Tech can be complex; we make it easy

Tech Tips - Tech can be complex; we make it easy. We create product reviews, step by step computer build guides, and a variety of other tech-focused projects.

Wednesday, October 21, 2020

پیرس میں دو مسلمان خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہپیرس میں دو مسلمان خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہ

پیرس میں دو مسلمان خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہ

اسلامی ملک الجزائر سے تعلق رکھنے والی کینزا اور امیل پر دو سفید فام خواتین نے حملہ کیا، کینزا کو 6 مرتبہ تیزدھار چاقو مار کے زخمی کیا گیا جبکہ امیل کے ہاتھوں پر چوٹ آئی، پولیس نے دو خواتین کو حراست میں لے لیا




پیرس میں دو مسلمان خواتین پر سفید فام عورتوں نے چاقوؤں سے حملہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایفل ٹاور کے قریب دو سفید فام خواتین نے دو مسلمان خواتین کو چاقو ؤں سے زخمی کردیا ۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سفید فام خواتین حملہ آوروں نے دو مسلمان خواتین پرایفل ٹاور کے نزدیک تیز دھار آلے سے حملہ کیا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں تازہ ترین حملوں کا نشانہ بننے والی خواتین کا تعلق الجزائر سے ہے جن کی شناخت کینزا اور امیل کے نام سے ہوئی ہے ۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق کینزا کو 6 مرتبہ تیزدھار چاقو مار کے زخمی کیا گیا جبکہ امیل کے ہاتھوں پر چوٹ آئی ۔ فرانسیسی پولیس کی جانب حملے کے بارے میں ابتدائی طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں جبکہ نسل پرستانہ حملوں کے بعد 2 خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

پیرس پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں پولیس ایفل ٹاور کے قریب چاقو سے زخمی ہونے والی دو خواتین کی ہنگامی کال کے بعد موقع پر پہنچی تو متاثرہ افراد میں سے ایک نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ انھوں نے کرونا کی وبا کی وجہ سے یا ثقافتی و مذہبی وجوہات کی بنا پر چہرے ڈھانپ رکھے تھے ۔ واضح رہے کہ فرانس میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔

فرانس کی حکومت نے بھی مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں ۔ دوسری جانب فرانس میں 2 مسلم خواتین پر حملے کیخلاف شدید ردعمل پایا جارپا ہے ۔ فرانس کی 50لاکھ سے زیادہ مسلم کمیونٹی کے افراد نے مساجد اور مسلم تنظیموں پر بندش کی وجہ سے ‘اسلاموفوبیا’ کی شکایت کی ہے ۔ واضح رہے کہ فرانس میں چارلی ہیبڈو کی جانب سے رسول خدا ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنائے جانے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد فرانس میں مسلمانوں کو عبادت اور دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے ۔